ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بی جے پی کی پریورتن نہیں پچھتاوا یاترا نکلی ہے: رام لنگا ریڈی

بی جے پی کی پریورتن نہیں پچھتاوا یاترا نکلی ہے: رام لنگا ریڈی

Thu, 02 Nov 2017 23:14:48    S.O. News Service

بنگلورو،2؍نومبر(ایس او نیوز؍عبدالحلیم منصور) بی جے پی کی طرف سے آج سے شروع کی گئی پریورتن یاترا پر طنز کرتے ہوئے ریاستی وزیر داخلہ رام لنگا ریڈی نے کہاکہ یہ پریورتن یاترا نہیں، بلکہ پچھتاوا یاترا ہے۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے مسٹر ریڈی نے کہاکہ 2008 میں ریاستی عوام نے بی جے پی کو اقتدار سونپا ، عوام کواس وقت توقع تھی کہ بی جے پی اچھی حکومت دے گی ،لیکن چند ہی دنوں میں بی جے پی نے اپنے کرپشن ، آپسی رسہ کشی اور نظم وضبط کی بگڑتی صورتحال کو قابو میں کرنے میں ناکامی کے ذریعہ عوام کی ان امنگوں کو جھٹلا دیا۔ پانچ سال کے دوران بی جے پی کو تین وزرائے اعلیٰ بدلنے پڑے ، ان میں سے ایک وزیر اعلیٰ جیل پہنچ گئے، ان کے ساتھ بی جے پی کے کئی لیڈر بھی جیل یاترا کرچکے۔ اب انتہائی بے شرمی سے بی جے پی ریاست کے عوام سے دوبارہ اقتدار مانگ رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ بی جے پی کو پہلے 2008اور2013کی مدت کے دوران ریاست میں مچائی گئی تباہی کیلئے عوام سے معافی مانگنی ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ ریاست کی سدرامیا حکومت نے انتہائی فراخدلی سے کسانوں کے قرضے معاف کئے ہیں ۔بی جے پی کا یہ دعویٰ بے بنیاد ہے کہ مرکزی حکومت کے فنڈز سے ریاستی حکومت نے کسانوں کے قرضے معاف کئے ہیں۔ پڑوسی ریاستوں کو جہاں مرکزی حکومت نے ہزاروں کروڑ روپے دئے ہیں کرناٹک کے ساتھ خشک سالی کے متاثرین کی مدد کے معاملہ میں کھلی ناانصافی کی گئی ہے۔ ریاست کی مرکز میں نمائندگی کرنے والے چار وزراء ہیں لیکن چاروں کاویری ، مہادائی اور دیگر سنگین آبی تنازعات کو سلجھانے اور کرناٹک کو انصاف دلانے میں ناکام رہے۔ انہوں نے کہا کہ آج سے بی جے پی کی طرف سے جو یاترا شروع کی گئی ہے اس کیلئے پولیس حکام کی طر ف سے اجازت دی گئی ہے۔تاہم یاترا کے دوران اگر نظم وضبط کو بگاڑنے کی کوشش کی گئی تو کسی کے مقام اور مرتبے کی پرواہ کئے بغیر کارروائی کی جائے گی اور کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کیلئے بی جے پی کو راست طور پر ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔انہوں نے کہاکہ سماج میں نفرت پھیلانے کے علاوہ بی جے پی کے کسی بھی قائدنے ریاست کی ترقی میں حائل رکاوٹوں اور ان کو دور کرنے کیلئے اقدامات پر کوئی سنجیدہ بحث نہیں کی۔ 


Share: